.

Love Story XXX ایک گاؤں کی مجبور لڑکی


ساویتری ایک 18 سال کی گاو کی لڑکی ہے جس کا باپ بہت پہلے ہی مر چکا تھا اور ایک ما اور ایک چھوٹا بھائی گھر میں تھا. غریبی کے سبب ما دوسروں کے گھروں میں شامل برتن جھاڑو کرتی اور کسی طرح سے اپنا اور بچو کا پیٹ بھر لیتی. آخر غریبی تو سب سے بڑا گناہ ہے،،، یہی اس کے دل میں شامل آتا اور کبھی -2 بڑبڑاتی .. گاو کا ماحول بھی کوئی بہت اچھا نہیں تھا اور اسی کے چلتے ساویتری بیٹی کی پڑھائی صرف آٹھویں درذے تک ہو سکی. اوارو اور گندو کی کمی نہیں تھی. بس عزت بچی رہے ایسی بات کی فکر ساویتری کی ما سیتا کو ستاتی تھی. کیونکہ سیتا جو 38 سال کی ہو چکی تھی قریب دس سال پہلے ہی بیوہ ہو چکی تھی ..... ذمہ اور پرےشانيو کے درمیان کسی طرح زندگی کی گاڑی چلتی رہے یہی رات دن سوچتی اور اپنے تقدیر کو كوستي. ساویتری کے سيانے ہونے سے یہ مشكلے اور بڑھتی لگ رہی تھی کیونکہ اس کا چھوٹا ایک ہی بیٹا صرف بارہ سال کا ہی تھا کیا کرتا کیسے کماتا ... صرف سیتا کو ہی سب کچھ کرنا پڑتا. گاو میں شامل عورتوں کی زندگی کافی ڈراونا ہوتا جا رہا تھا کیونکہ آئے دن کوئی نہ کوئی شرارت اور چھیڑ چھاڑ ہو جاتا .. اے سی لئے تو ساویتری کو آٹھویں کے بعد آگے پڑھانا مناسب نہیں سمجھا. سیتا جو کچھ کرتی کافی سوچ سمجھ کر .. لوگ بہت گںدے ہو گئے ہیں "یہی اس کے دل میں شامل آتا. کبھی سوچتی آخر کیوں لوگ اتنے گندے اور خراب ہوتے جا رہیں ہے .. ایک شراب کی دکان بھی گاو کے کونا پر کھل کر تو آگ میں گھی کا کام کر رہی ہے. کیا لڑکے کیا بوڑھے سب کے سب دارو پی کر مست ہو جاتے ہیں اور گندی گلیاں اور فحش حرکت لڑائی جھگڑا سب کچھ شروع ہو جاتا .. ویسے بھی دارو کی دکان اوارو کا بہت بڑھيا اڈہ ہو گیا تھا. روز کوئی نہ کوئی نئی بات ہو ہی جاتی بس دیر اسی بات کی رہتی کہ دارو کسی طرح گلے کے نیچے اتر جائے ... پھر کیا کہنا گاليا اور گندی باتوں کا سلسلہ شروع ہوتا کی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا. چار سال پہلے ساویتری نے آٹھویں درذے کے بعد سکول چھوڑ دیا .. وہ بھی ما کے کہنے پر کیونکہ گاو میں شامل آوارہ اور گندو کی نظر ساویتری کے اپر پڑنے کا ڈر تھا. اے بھی بات بہت حد تک درست تھی. ایسا کچھ نہیں تھا کہ سیتا اپنے لڑکی کو پڑھانا نہیں چاہتی پر کیا کرے ڈر اس بات کا تھا کہ کہیں کوئی انهوني ہو نا جائے. چار سال ہو گئے تب سے ساویتری صرف گھر کا کام کرتی اور ادھےر ادھےر نہیں جاتی. کچھ عورتوں نے سیتا کو مشورہ بھی دیا کہ ساویتری کو بھی کہیں کسی کے گھر جھاڑو برتن کے کام پہ لگا دے پر سیتا دنیا کے حقیقت سے بھلی طرح واقف تھی. وہ خود دوسروں کے یہاں کام کرتی تو مردوں کے رخ سے واقف تھی .. یہ بات اس کے بیٹی ساویتری کے ساتھ ہو یہ اسے پسند نہیں تھی. محلے کی کچھ عورتیں کبھی پیٹھ پیچھے تانے بھی مارتی "راجکماری بنا کے رکھی ہے لگتا ہے کبھی باہر کی دنیا ہی نہی دیکھے گی ... بس اسی کی ایک لڑکی ہے اور کسی کی تو لڑکی ہی نہیں ہے .." دھننو جو 44 سال کی پڑوس میں شامل رہنے والی تپاک سے بول دیتی .. دھننو چاچی کچھ موهپھٹ قسم کی عورت تھی اور سیتا کے قریب ہی رہنے کے وجہ سے سب کچھ جانتی بھی تھی. اٹھارہ سال ہوتے ہوتے ساویتری کا جسم کافی بدل چکا تھا، وہ اب ایک جوان لڑکی تھی، حیض تو ** سال کی تھی تبھی سے آنا شروع ہو گیا تھا. وہ بھی جسم اور مرد کے بارے میں اپنے سهےلو اور پڑوسو سے کافی کچھ جان چکی تھی. ویسے بھی جس گاؤں کا ماحول اتنا گندا ہو اور جس محلے میں شامل روز جھگڑے ہوتے ہوں تو بچے اور لڑکیاں تو گالو سے بہت کچھ سمجھنے لگتے ہیں. دھننو چاچی کے بارے میں بھی ساویتری کی کچھ سہیلیاں بتاتی ہیں کو وہ کئی لوگو سے پھاسي ہے. ویسے دھننو چاچی کی باتیں ساویتری کو بھی بڑا مزیدار لگتا. وہ موقع ملتے ہی سننا چاہتی. دھننو چاچی کسی سے بھی نہیں ڈرتی اور آئے دن کسی نہ کسی سے لڑائی کر لیتی. ایک دن ساویتری کو دیکھ بول ہی پڑی "کیا رے تیرے کو تو تیری ما نے قید کر کے رکھ دیا ہے. تھوڑا باہر بھی نکل کے دیکھ، گھر میں پڑے پڑے تیرا ديماگ سست ہو جائے گا؛ ما سے کیوں اتنا ڈرتی ہے" ساویتری نے اپنے شرميلے فطرت کے چلتے کچھ جباب دینے کی بجائے چپ رہ ایک ہلکی مسکراہٹ اور سر جھکا لینا ہی صحیح سمجھا. وہ اپنے ما کو بہت مانتی اور ما بھی اپنی ذممےداريو کو پوری طرح سے خارج ہونے والے مادہ کرتی. واشتو میں شامل ساویتری کا کردار ما سیتا کے ہی وجہ سے ایس گندے ماحول میں بھی سرچچھت تھا. ساویتری ایک سامانيا قد کاٹھی کی جسم سے بھری پوری مانسل نتبو اور بھاری بھاری چھاتیو اور سیاہ گھنے بال رنگ گےهان اور چهےرے پر کچھ مهاسے تھے. دکھنے میں شامل گدراي جوان لڑکی لگتی. **** میں شامل جسم کے ان اںگو پر جہاں روے اگے تھے اب وہاں کافی سیاہ بات اگ آئے تھے. ساویتری کا جسم عام قد 5'2 '' کا لیکن چوڑا اور مانسل ہونے کے وجہ سے چوتڑ کافی بڑا بڑا لگتا تھا.

No comments:

Post a Comment

i will contact you soon

Note: only a member of this blog may post a comment.

Popular

Comments

Recent